جمعرات 23 جولائی 2026 - 07:32
علامہ شیخ محمد حسن جعفری کی فکر میں اصلاحِ معاشرہ کا جامع تصور

حوزہ/خطبۂ جمعہ اسلامی معاشرے کی فکری، اخلاقی اور سماجی رہنمائی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ جب خطیبِ جمعہ قرآن و سنت کی روشنی میں عصرِ حاضر کے مسائل کا تجزیہ کرتا ہے تو اس کے الفاظ صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورے معاشرے کی فکری سمت متعین کرتے ہیں۔

تبصرہ: آغا زمانی سکردو

حوزہ نیوز ایجنسی| خطبۂ جمعہ اسلامی معاشرے کی فکری، اخلاقی اور سماجی رہنمائی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ جب خطیبِ جمعہ قرآن و سنت کی روشنی میں عصرِ حاضر کے مسائل کا تجزیہ کرتا ہے تو اس کے الفاظ صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورے معاشرے کی فکری سمت متعین کرتے ہیں۔

10 جولائی اور 17 جولائی 2026ء کو مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو بلتستان میں وکیلِ مراجعِ عظام، امامِ جمعہ والجماعت حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شیخ محمد حسن جعفری حفظہ اللہ کے خطبات اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں، جن میں فرد کی اصلاح، خاندان کی تربیت، اجتماعی ذمہ داری، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، دینی غیرت، سماجی نظم اور اسلامی اقدار کے تحفظ جیسے بنیادی موضوعات نہایت مؤثر انداز میں بیان کیے گئے۔

ان خطبات کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ علامہ شیخ حسن جعفری نے اصلاحِ معاشرہ کا آغاز اصلاحِ خاندان سے کیا۔ انہوں نے والدین، خصوصاً بچیوں کے سرپرستوں کو متوجہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ دور میں تربیت محض تعلیم دلانے کا نام نہیں بلکہ کردار سازی، دینی شعور، حلال و حرام کی پہچان اور محرم و نامحرم کی حدود سے آگاہی بھی اسی قدر ضروری ہے۔ سوشل میڈیا، موبائل فون اور مخلوط تعلیمی ماحول نے نوجوان نسل کو جن نئے فکری اور اخلاقی چیلنجز سے دوچار کیا ہے، ان سے صرف پابندیوں کے ذریعے نہیں بلکہ مضبوط دینی تربیت اور مسلسل رہنمائی کے ذریعے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مخلوط نظامِ تعلیم کے بعض منفی پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے نوجوانوں کے کردار اور مستقبل کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی تناظر میں طالبات کے لیے الگ تعلیمی ادارے کے قیام کا عزم تعلیمی منصوبہ کے ساتھ ساتھ ایک سماجی اور تہذیبی فکر کی نمائندگی بھی کرتا ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ معاشرتی مسائل کا حل صرف تنقید میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔

اپنے خطبات میں علامہ شیخ حسن جعفری نے قرآنِ مجید کی آیت ﴿وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ﴾ (سورۂ منافقون، آیت 8) کی روشنی میں عزت اور شخصیت کے حقیقی معیار کو واضح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام میں انسان کی عظمت مال و دولت، رنگ و نسل، منصب یا شہرت سے نہیں بلکہ تقویٰ، علم، کردار اور پرہیزگاری سے وابستہ ہے۔ اسی مضمون کو قرآن کریم کی اس آیت سے مزید واضح کیا جا سکتا ہے: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ (سورۂ حجرات، آیت 13) یعنی "بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔" یہ پیغام عصرِ حاضر کی مادہ پرستانہ سوچ کے لیے ایک واضح جواب ہے، جہاں شخصیت کو دولت، اقتدار اور شہرت کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے، جبکہ اسلام انسان کی اصل قدر اس کے اخلاق، کردار اور تقویٰ میں دیکھتا ہے۔

علامہ شیخ حسن جعفری نے شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کی شخصیت کو اسی قرآنی معیار کی عملی مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی کہ حقیقی عزت اللہ تعالیٰ کی عطا ہوتی ہے، اور یہ عزت صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اپنی زندگی کو ایمان، تقویٰ، علم اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی شخصیت کا احترام اس کے عہدے سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور اصولوں سے وابستہ ہوتا ہے۔

ان خطبات کا دوسرا اہم محور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھا۔ علامہ شیخ حسن جعفری نے نہایت مؤثر مثالوں کے ذریعے واضح کیا کہ بعض گناہ صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہوتے ہیں، جن کے اثرات پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اگر برائی کو کھلے عام ہونے دیا جائے، ظلم، فحاشی، بے حیائی، کرپشن اور اخلاقی انحطاط کے خلاف خاموشی اختیار کی جائے تو اس کے نتائج سے کوئی محفوظ نہیں رہتا۔ انہوں نے حضرت علی علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں بتایا کہ برائی کو روکنا صرف علماء یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر صاحبِ ایمان کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ کشتی میں سوراخ کرنے کی مثال دراصل اسلامی معاشرتی فکر کا نہایت جامع استعارہ ہے۔ اگر ایک شخص کی غلطی پوری کشتی کو غرق کر سکتی ہے تو ایک فرد یا گروہ کی اخلاقی بے راہ روی بھی پورے معاشرے کے امن، سکون اور اخلاقی بنیادوں کو متزلزل کر سکتی ہے۔ یہی وہ تصور ہے جو قرآن مجید کے اجتماعی احتساب اور اجتماعی ذمہ داری کے اصول کو واضح کرتا ہے۔

علامہ شیخ محمد حسن جعفری حفظہ اللہ نے کہا کہ انسانی معاشرے میں سیاسی، سماجی، چراگاہوں، پانی اور دیگر معاملات پر اختلافات پیدا ہونا ایک فطری امر ہے، تاہم ایک مومن کی ذمہ داری اختلافات کو ہوا دینا نہیں بلکہ ان کے خاتمے اور باہمی صلح و آشتی کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے میں نفرت اور تصادم کی آگ بھڑک اٹھے تو اہلِ ایمان کا فرض ہے کہ اسے بجھانے کی کوشش کریں، کیونکہ اسلام نے اصلاحِ ذات البین کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ انہوں نے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی وصیت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان صلح کرانا نفلی عبادات سے بھی افضل عمل ہے اور اللہ تعالیٰ و رسولِ اکرمؐ کے نزدیک نہایت محبوب صدقہ ہے۔ علامہ شیخ حسن جعفری نے کھرمنگ کے علاقے اولڈینگ میں چراگاہ کے تنازع پر پیش آنے والے المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے اصل مجرموں کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق قرار واقعی اور عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

انہوں نے سکردو میں منشیات کے خلاف جاری مہم کو سراہتے ہوئے انسدادِ منشیات کے محکمے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ منشیات کے خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں سے بھرپور تعاون کریں اور منشیات فروش عناصر کی نشاندہی کرکے نوجوان نسل کو اس ناسور سے محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے سیاحتی سیزن کے دوران سکردو میں پیدا ہونے والے بعض سماجی مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شہروں سے آنے والی بعض خواتین سیاحوں کے بھیس میں بازاروں، دکانوں اور رہائشی علاقوں میں بھیک مانگتی نظر آتی ہیں، جس سے جرائم کے امکانات بھی جنم لے سکتے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض سیاح گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلوں اور عوامی مقامات پر بلند آواز موسیقی، رقص اور دیگر غیر مناسب سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، جو مقامی مذہبی، ثقافتی اور سماجی اقدار کے منافی ہیں۔ بالخصوص ایامِ اربعینِ امام حسین علیہ السلام کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسی سرگرمیوں کی فوری روک تھام کو یقینی بنایا جائے تاکہ علاقے کے مذہبی تقدس اور عوامی احساسات کا تحفظ برقرار رہے۔

علامہ شیخ حسن جعفری کے خطبات کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ وہ محض نظری گفتگو پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ موجودہ معاشرتی مسائل کو دینی تعلیمات کے تناظر میں بیان کرتے ہیں۔ نوجوان نسل کی تربیت، خاندان کی ذمہ داری، معاشرتی بے راہ روی، اجتماعی غفلت اور اخلاقی زوال جیسے موضوعات پر ان کی گفتگو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دین صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی نظام ہے، جو فرد سے لے کر ریاست تک ہر سطح پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ خطبات اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے کی مضبوطی صرف ترقیاتی منصوبوں، معاشی استحکام یا جدید ٹیکنالوجی سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے اخلاقی اقدار، دینی شعور، مضبوط خاندانی نظام اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری ناگزیر ہیں۔ جب تک معاشرے میں نیکی کو فروغ دینے اور برائی کو روکنے کا جذبہ زندہ رہے گا، اس وقت تک اس کی فکری اور اخلاقی بنیادیں مضبوط رہیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ 10 اور 17 جولائی 2026ء کے یہ خطبات موجودہ دور کے فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجز کے تناظر میں ایک جامع اصلاحی منشور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں فرد کی اصلاح سے لے کر معاشرے کی تعمیر، خاندان کے استحکام سے لے کر اجتماعی ذمہ داری، اور تقویٰ سے لے کر امر بالمعروف و نہی عن المنکر تک اسلامی تعلیمات کا متوازن اور عملی تصور پیش کیا گیا ہے۔ اگر ان پیغامات کو محض سننے کے بجائے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کیا جائے تو یقیناً ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے جو اخلاق، عدل، علم، تقویٰ اور دینی اقدار کا حقیقی آئینہ دار ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha